…ابر آلود ھے دل

ابر آلود ھے دل ، کیسے اسے صاف کروں
خاموش یاد سے کس طور خود کو آزاد کروں

تو نہیں جب، تو یہ یاد ہی سرمایہ ھیں
کیوں کر اس خز ینے کی میں فریاد کروں

قفس_یاد میں بسی خوشیاں ہیں
خود ہوں صیاد، کیوں اور طویل نہ معیاد کروں

خود کو چھوڑا تو مزید تیرا قرب پایا
یہی تو چاہ تھی، کیوں نہ اسے ذیاد کروں

زندگی تیرے مرحلے کئ ابھی باقی ہیں،
کچھ اور یادوں کا کیوں نہ ابھی اندراج کروں